Changing A Zakaat Calculation Date To The Month Of Ramadhaan

Question

If for the sake of remembering his annual Zakah calculation date, can one permanently change his Zakah date to the 1st Ramadan from Zul-Qadah i.e. he is fixing the Zakah date to a few months earlier than the actual due date?

Answer

One cannot change the dates from his side, he will have to calculate his Zakat on the same date when he possessed the Nisab amount for the first time.

In the enquired instance, he cannot change the dates; however, he can discharge his Zakat in advance in the blessed month of Ramadhan if he wills and desires to acquire additional rewards and blessings. Henceforth, if one discharges his Zakat in advance, he will have to calculate and check when the entire year finishes that the Zakat amount paid in advance, was it more or less than the Zakat amount that was due? 

Thereafter, in the former case (where he gave more), he can consider the extra amount as advance Zakaat for the following year and deduct that extra amount from next year’s Zakat and in the latter scenario, he will discharge the balance in Zakat.

Checked and Approved By:

Mufti Muhammed Saeed Motara Saheb D.B.

References

ولو عجل ذو نصاب زكاته لسنين او لنصب صح لوجود السبب ص ۲۹۳ ج ۲ شامی ط: سعید كذا في فتاوى دار العلوم زكريا ص ۱۷۷ ج ۳ ط: زم زم

ز کوۃ کی تاریخ بدلنے کا حکم:
سوال: اگر کوئی شخص اپنی زکوۃ کی تاریخ بدلنا چاہتا ہے تو کیا وہ بدل سکتا ہے یا نہیں؟
جواب: جیسا کہ کہ پہلے بتایا تھا کہ ہر شخص کی زکوۃ کی تاریخ وہ ہے جب وہ پہلی بار صاحب نصاب بنا، لیکن جب ایک تاریخ بن گئی تو پھر آئندہ اسکو وہی تاریخ رکھنی چاہئے اسکو بدلنا درست نہیں۔
 زکوۃ کس طرح ادا کریں
از مفتی تقی ص ۴۳ ط : مرکز الاقتصاد الاسلامی

پیشگی زکوۃ دینا ایک صاحب نصاب شخص اگر سال پورا ہونے سے پہلے زکوۃ نکال دے یا ایک دو سال کی پیشگی زکوۃ ادا کر دے تو یہ جائز ہے البتہ سال پورا ہونے پر زکوۃ کا حساب کرے اگر ذمہ میں کچھ باقی ہو تو وہ زکوۃ ادا
کر کے ذمہ سے فارغ ہو جائے۔ فقہ العبادات ص ۳۰۰ ط: دار الاشاعت
رمضان المبارک کے جملہ فضائل میں ایک فضیلت یہ بھی آتی ہے کہ ماہِ مبارک میں نفل عمل فرض کے برابر ہو جاتا ہے جبکہ فرض عمل کا ثواب ستر گنا بڑھ جاتا ہے لہذا ماہ مبارک میں زکوۃ ادا کرنے کا ثواب بھی زیادہ ہو گا، لیکن کیونکہ زکوۃ کی مشروعیت فقراء و مساکین کی حاجت پوری کرنے کے لئے ہوئی ہے لہذا جو صورت انفع للفقراء ہو اسکو اختیار کر کے زکوۃ ادا کرنے میں زیادہ ثواب ہو گا اب اگر حولان حول سال کے درمیان میں ہوا تو اسی وقت زکوۃ ادا کرنے میں زیادہ ثواب ہو گا کیونکہ غریب لوگ اسکے زیادہ حاجتمند ہوتے ہیں اور تاخیر کرنے میں انکی حاجات کا لحاظ نہیں ہوتا، نیز کسی شرعی عذر کے بغیر زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرنا گناہ ہے، البتہ اگر حولان حول سے پہلے رمضان المبارک کے مہینہ میں زکوۃ ادا کی یا حولان حول رمضان المبارک کے مہینہ میں ہو رہا ہے تو ان دونوں صورتوں میں ماہِ مبارک میں زکوۃ ادا کرنے کا زیادہ ثواب ہو گا۔ نجم الفتاوی ص
۱۴۰ ج ۳ ط: شعبه نشر و اشاعت دار العلوم یاسین القرآن

ادائیگی زکوۃ کے لیے کوئی تاریخ متعین نہیں
مسئلہ (۸۸): زکوۃ کی ادائیگی کے واجب ہونے کے لیے کوئی مہینہ یا تاریخ متعین نہیں، بلکہ جس دن نصاب پر سال پورا ہو اسی تاریخ کو زکوۃ کی ادائیگی واجب ہو گی ، مثلاً کوئی شخص یکم محرم الحرام کو صاحب نصاب ہوا، تو آئندہ یکم محرم الحرام کو اس پر زکوۃ کی ادائیگی واجب ہو گی (۲)، مگر عام لوگ رمضان المبارک میں زکوۃ ادا کرتے ہیں، بعض تو وہ ہوتے ہیں کہ رمضان ہی میں ان کے نصاب پر سال پورا ہوتا ہے ، وہ وقت پر ہی ادا کر رہے ہیں، اور بعض لوگ وہ ہوتے ہیں کہ ان کے نصاب پر سال پہلے ہی پورا ہو چکا ہوتا ہے ، مگر زکوۃ کی ادائیگی رمضان میں کرتے ہیں ، ان کے لیے بہتر یہ تھا کہ جس وقت سال پورا ہوا اسی وقت ادا کرتے، کیونکہ ادائے زکوۃ میں تاخیر کرنا مکروہ تحر کرنا مکروہ تحریمی ہے ، (۱) اور بعض وہ ہوتے ہیں عجور مضان المبارک کی فضیلت و برکت ( ثواب میں ستر ۷۰ گنا اضافہ ) سے فائدہ اٹھانے کے لیے پیشگی ز لیے پیشگی زکوۃ دیتے ہیں جو کہ جائز ۔ جو کہ جائز ہے ، مگر تین

شرطوں کے ساتھ :
ا- بوقت تعجیل ( پیشگی زکوۃ ادا کرتے وقت) سال شروع ہو چکا ہو۔
۲- آخر سال میں وہ نصاب کامل ہو جس کی پیشگی زکوۃ دی گئی۔
۳- درمیان میں اصل نصاب فوت نہ ہو۔ (۲)

ا -(ما في الفتاوى الهندية : و تجب على الفور عند تمام الحول، حتى يا ثم بتأخيره من غير عذر ، وفي رواية الرازي على التراخي حتى يا ثم عند الموت، والأول أصبح كذا في التهذيب – (۱۷۰/۱، کتاب الزكاة، الباب الأول و تفسیر ها وصفتها وشرائطها)
۲-(ما في الفتاوى التاتارخانية “: وشرح الطحطاوي: وإنما يجوز التعجيل بشرائط ثلاثة: أحدها: أن يكون الحول منعقد أوقت التعجيل، والثاني : أن يكون النصاب كاملاً في التي عجل عنه في آخر الحول، والثالث : أن لا يفوت أصله فیما بین ذلک۔
(۲۸/۲، کتاب الزكاة ) ( فتاوی حقانیہ : ۴۸۶/۳). کو اضلع نند وہار مہاراشٹر انڈیا محقق و مدلل جديد مسائل ص ١٥٥ – ١٥٦ جلد ١ مؤلف: حضرت مفتی محمد جعفر ملی رحمانی صاحب – ناشر : مکتبہ السلام جامعہ اکل

Disclaimer
Purpose and Scope
The information provided on this website is intended for informational and educational purposes only. Fatawa provided on this website are context-dependent, scenario-specific and are impacted by interpretations and individual circumstances.
The information provided on this website is not a substitute for an independent, scenario-specific question, and must not be used to determine or establish a ruling for any other circumstance, situation or dispute.
Accuracy and Reliability
While Darul-Ifta - Darul Uloom Azaadville strives for accuracy, errors may occur. Users are encouraged to verify information independently and notify the Darul-Ifta of any discrepancies.
We reserve the right to edit, moderate or remove any content.
No Legal Authority
Fatawa provided on this website are not legal judgments but rather religious rulings. Legal matters should be addressed through appropriate legal channels.
Acceptance
By using this website, users agree to these terms and conditions.